
قربت کے لمحات میں اگر بیوی اپنے شوہر کو انکار کرے تو مرد کو کیا کرنا چاہیے ؟ مفتی صاحب کا موقف آگیا
گھر کے کام کاج یا کسی بھی تھکاوٹ کی وجہ سے شوہر کو قریب آنے سے منع کر سکتی ہے اور اگر ایسا ہوتو کیا کرنا چاہیے، اس سوال پر معروف عالم دین مفتی طارق مسعود کا ردعمل آگیا۔
ان کا کہناتھاکہ یہ مسئلہ اگرچہ حیا کے خلاف ہے ، خاتون کا نام نہیں بتا سکتے لیکن یہ بہت زیادہ پوچھے جانیوالے سوالات میں سے ایک ہے ، اس لیے بیان کر رہا ہوں اور حدیث میں اس موضوع پر بہت واضح احکام ملتے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت شوہر کو قریب نہ آنے دے اور شوہر اس کی وجہ سے ناراض ہو کے سو جائے تو اس عورت پر پوری رات فرشتے لعنت کرتے ہیں ، بہت شدید وعید ہے “۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ اگر عورت اپنے شوہر کا اس معاملے میں ساتھ نہیں دے گی تو مرد کے قدم گناہوں کی طرف بڑھیں گے ، عورت پر لازم ہے کہ وہ زینت اختیار کرے تاکہ مرد کو کسی اور کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہ آئے ، مرد بھی اپنی اہلیہ سے محبت کرے اور وہ ادھر اُدھر جو منہ مار رہا ہے اس سے بچے ۔
انہوں نے کہاکہ یورپ میں تو اس کو جرم سمجھا جاتا ہے کہ بیوی کی اجازت کے بغیر شوہر اس کے پاس چلا جائے، ان کے ہاں بے حیائی کو اتنا بڑا جرم ہی نہیں سمجھا جاتا ، اگر مرد دن میں کسی اور کے پاس چلا جائے تو وہ اس کو اتنا سنجیدہ نہیں لیتے ، اسلام میں تو یہ بہت بڑا جرم ہے کہ آپ کے لیے اللہ نے جس زوجہ کو بنایا ، آپ اس کے علاوہ کسی اور کے پاس جا رہے ہیں اور یہ حکمت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ عورت اس میں اپنے مفاد پر شوہر کے مفاد اور شریعت کے مفاد کو ترجیح نہ دے ، جب تک عورت کو کوئی بیماری نہ ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کو انکار کرے، بیماری ہے تو ایک الگ بات ہے۔
مفتی طارق مسعود نے کہا کہ شوہر کو بھی بہرحال یہ چاہیے کہ اگر اسے گناہ کا خطرہ نہیں اور وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ زوجہ کام کاج کی وجہ سے بہت زیادہ تھک گئی ،احساس کرلے کہ اس کی نیند میں بہت خرابی ہوگی تو شوہر کے لیے بہرحال اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ تھوڑا سا اپنی خواہش کو آپ کنٹرول کر لیں۔ قانون تو ایسے موقع پہ شوہر کا ساتھ دے گا ، اسلامی قانون عورت کو برا کہے گا لیکن اخلاقیات بھی کوئی چیز ہوتی ہیں ،کبھی کبھار اگر ایسا ہوتا ہے تو شوہر کو چاہیے کہ وہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرے اور بیوی کو مجبور نہ کرے ۔